یہ وہ نقطہ تھا جہاں رحمت للعالمین ﷺ کا ضبط بھی جواب دے گیا،اور آ[پﷺ کی ہجکیاں بندھ گئیں۔داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی اور آواز مبارک حلق میں گولا بن کر پھنسنے لگی۔وہ شخص دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور آپﷺہجکیاں لے رہے تھے۔
آج کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ لوگ کتنے ظالم اور جاہل تھے لیکن یہ لوگ اپنے زمانے کو نہیں دیکھتے۔ اگر آج ہم اپنا زمانہ دیکھیں تو یہ کا م اس زمانے سے آج کے دور میں زیادہ ہو رہا ہے۔اُس وقت کے لوگ بیٹیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کرتے تھے جب کہ آج کے لوگ بیٹی پیدا ہونے سے پہلے ہی (Abortion)کے ذریعے قتل کر کے دفن کر دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment